اردو نیوز سعودی عرب. سعودی عرب سے پاکستانیوں کی واپسی، ایک دن میں چار پروازیں

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان مملکت کا موقف پیش کریں گے- فوٹو: الاقتصادیہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس افتتاحی خطاب اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سعودی عرب کا موقف پیش کریں گے اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد سعودی سرمایہ کار پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔ انہوں نے یہ بات سعودی نائب وزیر تجارت کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے بعد کہی۔ عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سعودی وزیر اور سرمایہ کاروں کے وفد سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے سفیرنواف المالکی نے بھی ملاقات کو مثبت اورخوش آئند قرار دیا۔ اردو نیوز جدہ کے مطابق پاکستان نے ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کے سرمایہ کار ہائیڈرو کیمیکل، فوڈ، زراعت اوردیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ سعودی عرب کی جانب سے بہت بڑی سرمایہ کاری کی نوید دی گئی ہے۔ اردو نیوز جدہ کے مطابق پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے وفد نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ برادر اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اورخواہش مند ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ نواف سعید المالکی نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی سرمایہ کاروں کا وفد پاکستانی تاجروں کے ساتھ ملاقاتیں کرے گا۔ سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے بتایا کہ سعودی سرمایہ کارپٹرو کیمیکل اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
Launched in May of 1992 in Riyadh, Arrajol is a male-oriented Arabic-language monthly magazine, focusing on the male lifestyle in the Arab world امدادی کانفرنس شاہ سلمان اور ولی عہد کی ہدایت پر ہورہی ہے- فوٹو: سوشل میڈیا یہ کانفرنس شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر منعقد کی جا رہی ہے

سعودی عرب میں مقیم غیرملکیوں کی وطن واپسی کیلئے سعودی حکومت کا بڑا فیصلہ

چین سے شروع ہونے والا کورونا وائرس اب تک پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ سمیت دنیا کے تقریباً تمام ممالک کو متاثر کر چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کو عالمی وبا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ اور شدت خطرناک ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے کئی ممالک اور شہروں میں لاک ڈاون ہے اور عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے۔.

UrduNews In Saudi Arbia (KSA) اردو نیوز سعودی عرب: daily urdu news paper ksa daily urdu news paper saudi arabia
پریس کانفرنس کی منتظم انتونیو گوتریس کی سیکریٹری برائے عالمی رابطہ جات میلیسیا فلیمنج ہوں گی
سعودی عرب: شاہی خاندان کے تین سینئر ارکان زیرِ حراست
ریاض نیٹ نیوز سعودی عرب میں کرونا کے پیش نظر 90 روز کے کرفیو کے بعد معمولات زندگی بحال ہو گئے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق کرفیو مکمل ختم کر دیا گیا ہے اور معمولات زندگی بحال ہو گئے ہیں تاہم حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ معمولات زندگی بحال ہونے کے بعد مارکیٹس، بیوٹی پالر، باربر شاپ اور کاروباری مراکز کھل گئے جب کہ تمام مساجد بھی کھول دی گئی ہیں۔ تاہم عمرہ اور زیارت بدستور بند رہیں گی۔کرفیو ختم ہونے کے بعد سعودی عرب کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر دفاتر جانے والوں اور کاروبار کرنے والی گاڑیوں کا رش دیکھا گیا، تاہم ٹریفک کا عملہ شاہراہوں پر تعینات ہے اور ایس اوپیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے سعودی حکومت نے 23 مارچ سے جزوی کرفیو کا اعلان کیا تھا جس کے بعد 31 مئی سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نرم کر دیا گیا اور ضابطہ کار کے ساتھ مساجد میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی کی بھی اجازت دے دی گئی ہے جب کہ سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین بھی کاموں پر واپس آچکے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی سورج گرہن رہا۔ سورج گرہن کے دوران سعودی عرب کے مختلف شہروں میں نماز کسوف ادا کی گئی۔ نماز کسوف کے دوران استغفار، امت مسلمہ کی سلامتی کرونا سے نجات کے لیے خصوصی دعائیں کی۔سعودی عرب میں سینما گھر اور فلمی شوز کی مشروط بحالی کا اعلان کر دیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق حفاظی اقدامات کے ساتھ سینما گھر کھل سکیں گے۔ سماجی فاصلے کیلئے نشان لگائیں گے۔
سعودی عرب: کرفیو میں نرمی اور مساجد کھولنے کا اعلان
سعودی عرب میں اردو بولنے والے ڈرائیورز کے لیے خوشخبری ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں ٹیکسیوں کا رنگ اور کرائے کا نظام تبدیل کیا جا رہا ہے جس میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس سروس کے لیے ڈرائیورز کو خصوصی ٹریننگ دی جا رہی ہے ۔ ڈرائیورز کو 3 زبانوں اردو ، انگریزی اور عربی میں ٹریننگ دی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈرائیورز اس سروس میں شامل ہو سکیں۔ گرین ٹیکسی کِنگڈمز ایئر پورٹ سے شروع کی جائے گی لیکن کرایہ کیش میں نہیں لیا جائے گا بلکہ ٹیکسی کرایہ موبائل ایپس یاکسی بھی مشینی ذرائع سے ادا کرنا ہوں گا۔ پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے نائب صدر فواز الشاہی نے گرین ٹیکسی سروس کےحوالے سے بتایا کہ اس پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے پرائیویٹ ٹیکسیوں کے مالکان دلچسپی دکھا رہے ہیں جس کے لیے دیگر کے ذریعے 10 ہزار ڈرائیورز مستفید ہوں گے۔ واضح رہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں گرین ٹیکسیاں ہوائی اڈوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔ گزشتہ روز قبلسعودی عرب جانے کے لیے پولیو کی ویکسین لازمی قرار دے دی گئی تھی اور پاکستان اور افغانستان سے سعودی عرب جانے والے لوگوں کو وزارت صحت کے ایک نئے حکم کو پورا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ سعودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سے سعودی عرب جانے کے خواہشمند زائرین کو سفر سے کم از کم بارہ ماہ پہلے پولیو ویکسین لگوانا ضروری ہے- سعودی حکومت ملک میں پولیو کی ممکنہ وبا کو روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان میں پولیو کی وبا دوبارہ سے پھیلنا شروع ہو گئی ہے اس لیے ان دونوں ممالک کے زائرین کے لیے اب یہ پولیو ویکسین لگوانے کے اضافی شرائط عائد کیے جا رہے ہیں- اس کے علاوہ ان ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے زائرین کو پولیو ویکسین کی اضافی خوراک یعنی بوسٹر ڈوز دی جائے گی۔ DISCLAIMER The logo, name and graphics of BOL and its products and services are the trademarks of BOL
آن لائن کانفرنس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دینے کے لیے پریس کانفرنس ہوگی The magazine contains articles and information of interest to men, including fashion, automotive news, and others
سعودی وزارت داخلہ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے صحت حکام کی سفارشات پر کرفیو اور حفاظتی اقدامات میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ داخلی پروازیں بھی شروع کی جا رہی ہیں۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق جمعرات 28 مئی سے ہفتہ 30 مئی تک سعودی عرب کے تمام علاقوں میں صبح چھ بجے سے لے کر سہ پہر تین بجے تک گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ اتوار 31 مئی سے ہفتہ 20 جون کی شام تک صبح چھ بجے سے رات آٹھ بجے تک کرفیو میں نرمی رہے گی جبکہ مکہ اس سہولت سے مستثنی ہوگا۔ Node ID: 481156 کرفیو سے خارج اوقات میں نجی گاڑی سے ملک کے تمام شہروں اور صوبوں میں آنے جانے کی اجازت ہوگی۔ خبررساں ادارے سبق کے مطابق احتیاطی تدابیر کے ساتھ اندرون ملک پروازوں کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اتوار 31 مئی سے سعودی عرب کی تمام مساجد جمعہ اور فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے کھول دی جائیں گی۔ مکہ مکرمہ کی مساجد اس سے مسثنی ہوں گی۔ مساجد میں حفاظتی تدابیر کی پابندی لازمی ہوگی۔ مسجد الحرام میں جمعہ اور باجماعت نمازیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری رہیں گی۔ کرفیو سے خارج اوقات میں متعدد مزید اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی بھی اجازت دے دی گئی۔ اس میں تھوک اور ریٹیل کا کاروبار کرنے والی دکانیں کھلیں گی، تجارتی مراکز اور مالز بھی کھولیں جائیں گے۔ وزارت داخلہ نے تاکید کی ہے کہ ایسےتمام کام جن میں سماجی دوری کی شرط پوری نہ ہوتی ہو ان پر پابندی جوں کی توں برقرار رہے گی۔ ان میں باربر شاپس، بیوٹی پارلر، فٹنس سینٹر، پلے گراونڈ، سپورٹس کلب، تفریحی مراکز، سینما گھر وغیرہ حسب سابق بند رہیں گے۔ وزارت داخلہ نے بیان میں کہا کہ اتوار 31 مئی سے ہفتہ 20 جون کی شام تک مندرجہ ذیل طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ کرفیو سے خارج اوقات میں مزید اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی بھی اجازت دے دی گئی فوٹو: اے ایف پی سعودی عرب کے تمام علاقوں میں صبح چھ بجے سے رات آٹھ بجے تک گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ مکہ مکرمہ اس سہولت سے مستثنی ہوگا۔ ایسی تمام اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی جنہیں اس سے پہلے استثنی دیا جا چکا ہے۔ سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں میں ڈیوٹی کی معطلی ختم: وزارتوں، سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں میں ڈیوٹی کی معطلی ختم کردی گئی۔ ملازمین مقررہ ضوابط کے مطابق دفاتر میں ڈیوٹی دیں گے۔ وزارت سماجی بہبود، وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ یکجہتی پیدا کرکے ڈیوٹی ضوابط تیار کرے گی۔ سعودی عرب کے تمام علاقوں کے درمیان ٹرانسپورٹ کے مختلف وسائل کے ذریعے سفر پر پابندی ختم کردی گئی ہے البتہ متعلقہ ادارے ضروری احتیاطی تدابیر اور اقدامات کے پابند ہوں گے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سعودی حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے تھے فوٹو: اے ایف پی سابقہ فیصلوں کے بموجب مستثنی سرگرمیوں کے علاوہ کرفیو سے خارج اوقات میں دیگر اقتصادی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔ ریستوران حفاظتی تدابیر کی پابندی کے ساتھ کھل جائیں گے۔ قہوہ خانوں کو بھی اس کی اجازت ہوگی۔ سماجی دوری کی شرط پوری نہ کرسکنے والی سرگرمیاں حسب سابق بند رہیں گی۔ پبلک مقامات پر 24 گھنٹے سماجی دوری کی پابندی جاری رہے گی۔ علاوہ ازیں شادی کی تقریبات اور تعزیتی اجتماعات میں پچاس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 21 جون اتوار سے ملک کے تمام علا قوں اور شہروں میں حالات معمول پر آجا ئیں گے البتہ مکہ میں پابندی بر قرار رہے گی۔ تمام شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفا ظتی تدابیر کی پابندی کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ کرفیو کے دوران محلے میں واک کی اجازت ہوگی۔ عمرہ اور بین الاقوامی پروازوں پر پابندی برقرار: عمرہ اور زیارت پر پابندی برقرار رہے گی۔ بین الاقوامی پروازیں تااطلاع ثانی معطل رہیں گی۔ نئی صورتحال کے حوالے سے حفاظتی اقدامات میں نرمی اور سختی کا فیصلہ ہوگا۔ خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ کریں

سعودی عرب ، کرفیو کا خاتمہ، سڑکوں پر رش، مسجدالحرام میں نماز کسوف

سعودی عرب سے پاکستانیوں کی واپسی کا عمل تیز کردیا گیا ہے اور ایک دن میں چار خصوصی پروازیں ریاض اور جدہ سے گئی ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی آئی اے کی تین خصوصی پروازیں منگل کو ریاض سے پشاور اور ملتان پہنچ گئیں۔ جدہ سے سعودی عربیئن ایئر لائنز کی ایک خصوصی پرواز اسلام آباد پہنچی ہے جبکہ ملتان جانے والی دو پروازوں میں 140، 140 اور پشاور جانے والی خصوصی پرواز کے ذریعے 250 مسافر سعودی عرب سے پاکستان پہنچے ہیں۔ سفیر پاکستان مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ فوٹو اردونیوز پشاور جانے والی پرواز سے سولہ پاکستانیوں کی میتیں بھی بھیجی گئی ہیں۔ سفیر پاکستان راجہ اعجاز، ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشی مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث سعودی عرب سے واپس آنے کی خواہشمند پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے خصوصی پروازوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ جدہ سے آٹھویں پرواز ہے۔ اب تک 1700 افراد کو پاکستان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ ریاض سے آٹھ پروازوں کے ذریعے 1434 پاکستانی واپس جا چکے ہیں۔ دمام سے بھی خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستانی واپس گئے ہیں۔ سعودی عرب سے پاکستانیوں کی واپسی کا عمل تیز کردیا گیا ہے فوٹو اردونیوز ریاض میں سفارتخانہ پاکستان اور جدہ میں پاکستان قونصلیٹ پی آئی اے کے عملے کے تعاون سے سعودی عرب سے پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کے انتظامات کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں اس وقت ہزاروں پاکستانی وطن واپسی کے خواہشمند ہیں جن میں سے بیشتر وزٹ یا بزنس ویزے پر آئے تھے یا ان کا خروج نہائی لگا تھا اور وہ سفری پابندیوں کے باعث واپس نہیں جا سکے تھے۔ دریں اثنا دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کی تین پروازیں 530 پھنسے ہوئے پاکستانیوں اور 16 میتوں کو لے کر منگل کو ریاض سے پاکستان پہنچی ہیں۔ بیان کے مطابق ریاض میں قائم پاکستانی سفارتخانے اور جدہ میں قونصلیٹ جنرل نے 480 عمرہ زائرین اور 195 قیدیوں سمیت 4000 سے زائد پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی میں معاونت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق خصوصی پروازوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ فوٹو سوشل میڈیا پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی عرب میں پاکستان مشن پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے تناظر میں ان کی ممکنہ معاونت کی جا رہی ہے۔ ریاض میں پاکستان کے سفارتخانے کی درخواست پر پاکستانیوں کی واپسی کے لیے سعودی عرب جانے والی خصوصی پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مشنز نے انتقال کر جانے والے پاکستانیوں کی مقامی تدفین کے 40 کیسز میں بھی معاونت کی ہے جبکہ اب تک 90 میتوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے تحت بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے وزارت خارجہ امور کوششیں جاری رکھے گی۔.

23
‫بریکینگ نیوز سعودی عرب‬‎
اس میں شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے نگران اعلی ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے سیکریٹری مارک لوکوک شریک ہوں گے
سعودی عرب ، کرفیو کا خاتمہ، سڑکوں پر رش، مسجدالحرام میں نماز کسوف
سعودی عرب میں صحت کی انشورنس کی تمام پالیسیز میں کورونا وائرس کے مصدقہ اور مشتبہ مریضوں کے لیے تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ عرب نیوز کے مطابق کوآپریٹیو ہیلتھ انشورنس کونسل کے ترجمان یاسر المارک کا کہنا ہے کہ لوگوں کو بغیر کسی تاخیر کے ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کے لیے کونسل تمام متعلقہ ہیلتھ ایجنسیز سے رابطے میں ہے۔ Node ID: 484831 انہوں نے مزید بتایا کہ اس میں کورونا وائرس کے مریضوں کا معائنہ، ادویات اور دوسری ضروریات شامل ہوں گی۔ اس بارے میں سوالات اور تجاویز کے لیے ٹول فری نمبر 920001177 پر کال کی جا سکتی ہے، یا متعلقہ ویب سائٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ دریں اثنا، جمعے کو، سعودی عرب میں کورونا وائرس کی وجہ سے مزید 36 افراد کی اموات ریکارڈ کی گئیں، جس سے مملک میں اس وبا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ سو 93 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ، تین ہزار نو سو 21 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں، جس سے اب تک ایک لاکھ 19 ہزار نو سو 42 افراد اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 38 ہزار 20 ایکٹیو کیسز ہیں، جن میں سے ایک ہزار آٹھ سو 20 کی حالت تشویش تاک ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق، ایک ہزار 584 کیسز ریاض سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ جدہ میں 285 اور مکہ میں 99 ہیں۔ اب تک سعودی عرب میں 10 لاکھ 69 ہزار 336 افراد کا ٹیسٹ ہو چکا ہے۔ وزارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ مزید ایک ہزار 10 مریض اس وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں، جس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 81 ہزار 29 ہوچکی ہے۔
سعودی عرب میں اردو بولنے والے ڈرائیورز کے لیے خوشخبری ہے۔
کارروائی مندرجہ ذیل لنکس اور پر انٹرنیٹ کے ذریعے براہ راست دکھائی جائے گی
پوری دنیا میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر لاک ڈاون کی وجہ سے گھروں میں موجود لوگوں نے مصروفیت کے نئے طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں۔ عرب نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں بسنے والی مختلف کمیونٹی کے افراد نے بوریت سے بچنے کے لیے خاندان اور دوستوں کے ساتھ مل کر ایشیا کے روایتی کھیل کیرم بورڈ کا سہارا لے لیا ہے جسے کسی حد تک فراموش کر دیا گیا تھا۔ وقت گزاری کا یہ قدیم کھیل چار یا دو کھلاڑیوں کے مابین کھیلا جاتا ہے اور کھلاڑی کیرم بورڈ کے ارگرد بیٹھنے کے باعث ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر بھی رہتے ہیں۔ کرفیو کے اوقات میں مصروف رکھنے کی وجہ تلاش کر لی ہے فوٹو عرب نیوز کورونا وائرس کے سبب پہلے لاک ڈاون اور پھر کرفیو کا اعلان ہوا تو لوگوں نے سعودی عرب میں کھیلوں کے سامان کی دکانوں کا رخ کرلیا۔ کیرم بورڈ خاص قسم کی لکڑی کا تختہ ہوتا ہے جس پر مربع شکل کا خوبصورت ڈیزائن بنا ہوتا ہے اور چاروں کونوں میں گول پاکٹ موجود ہوتی ہے۔ لاک ڈاون اور کرفیو کے دوران کیرم بورڈ کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ منفرد کھیل اب سعودی شہریوں میں بھی پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ اس کھیل سے خاندان کے بچے، بڑے اور بوڑھے سب ہی لطف اندوز ہورہے ہیں۔ کیرم بورڈ خلیج کے دیگر علاقوں خصوصی ساحلی علاقوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے۔ خوبصورت ڈیزائن کے کیرم بورڈ کے چاروں کونوں میں پاکٹ ہوتی ہیں فوٹو عرب نیوز کورونا وائرس کے سبب دفتر کے بجائے جدہ میں اپنے گھر سے خدمات انجام دینے والے انجینیئر ماجد الدوسری نے کہا ہے کہ' میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ میں نے کچھ دن قبل ہی کیرم بورڈ خرید لیا تھا جس سے اچھا وقت گزر رہا ہے۔' انہوں نے بتایا کہ ' میں نے سب سے پہلے کیرم بورڈ اپنے مستقبل کے سسرال والوں کے ساتھ کھیلا تھا جس کے بعد اب میں اپنے گھروالوں کے ساتھ کھیلتا ہوں۔ ماجد الدوسری نے بتایا کہ ' پہلے عموما ہم دوپہر کے کھانےپر ملتے تھے جبکہ اب ہم اکثراکٹھے کیرم کھیلتے ہیں جس میں میرا بھائی ، بھابھی، بہن کافی اور چائے کے ساتھ اس میں شامل ہوتے ہیں۔' کالی گوٹیوں کو وائے کی شکل میں اور سفید کو ان کے ساتھ ترتیب دی جاتی ہے فوٹو عرب نیوز الدوسری نے بتایا کہ جب جدہ میں کرفیو کا اعلان ہوا تو میں نے ویب سائٹ کے ذریعے کیرم بورڈ کا آرڈر کیا جو دو دن بعد 90 ریال میں مجھے گھر پر پہنچا دیا گیا۔ موجودہ دنوں میں کیرم بورڈ 300 ریال سے 400 ریال تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ کئی دکانوں اور آن لائن فروخت کنندہ کے پاس اس کا سٹاک ختم بھی ہو چکا ہے۔ کیرم بورڈ کھیلنے کے لیے کالے اور سفید رنگ کی گول شکل کی 9 ،9 گوٹیوں کو بورڈ کے وسط میں ایک خاص ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔ کالی گوٹیوں کو وائے کی شکل میں اور سفید گوٹیوں کو ان کے ساتھ ایسے ترتیب میں رکھا جاتا ہے کہ ان کے بیچوں بیچ سرخ رنگ کی ایک گوٹ رکھی جاتی ہے جسے ملکہ یا کوئین کا نام دیا گیا ہے۔ 9 ،9 گوٹیوں کو بورڈ کے وسط میں ایک خاص ترتیب سے رکھا جاتا ہے فوٹو ٹوئٹر ایک بڑے سائز کی گوٹ سٹرائیکرکی مدد سے کھلاڑی اپنی جانب کی لائن سے گوٹیوں کو سامنے کونوں میں موجود گول پاکٹ میں پہنچانے کی کوشش کرتا ہے جوکھلاڑی ملکہ کے ساتھ اپنی دوسری گوٹی پاکٹ کرلیتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔ کیرم بورڈ کھیلنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کھیل کئی دہائیوں قبل برصغیر سے حجاز کی راستے تاجروں کے ذریعے سعودی عرب پہنچا ہے۔ اس کے بعد یہ معاشرتی زندگی کا حصہ بن گیا ہے، جس میں بچوں کے ساتھ خواتین اور بزرگوں کی بھی دلچسپی ہے۔ سعودی آرٹسٹ نجات مطاہر نے خوبصورت تصویر کے ذریعے اس کھیل اور خاندان کے تعلق کو اجاگر کیا ہے جس میں دادا، دادی اپنے پوتے کے ساتھ کیرم بورڈ کھیل رہے ہیں۔ سعودی ماہر بشریات سعد السویان نے کیرم بورڈ کے متعلق کہا ہے کہ یہ سعودی عرب میں کئی نسلوں سے کھیلا جا رہا ہے اور اس کھیل میں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ انہوں نے اپنی تحریر سعودی عرب کی روایتی ثقافت کی بارہویں جلد میں اس مقبول کھیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عرب اور سعودی معاشرتی زندگی میں اس کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ سرخ رنگ کی گوٹ کو ملکہ یا کوئین کا نام دیا گیا ہے فوٹو ٹوئٹر جدہ میں موجود 39 سالہ استاد ناہید نور نے بتایا کہ'میں ایک عرصے سے اپنی امی اور گھر کے دیگر اہل خانہ کے ساتھ کیرم بورڈ کھیلتا رہا ہوں۔ یہ بہت دلچسپ اور زبردست مزے کا کھیل ہے۔ دو بچوں کے والد ناہید نور نے بتایا کہ گذشتہ دنوں اس کھیل کی عادت ختم ہو گئی تھی لیکن اب پھر اسے اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ اپنا لیا ہے۔ ناہید نے بتایا کہ یہ کھیل مشکل کے وقت ایک دوسرے کو لطف اندوز کر دیتا ہے۔ ہم سب گھر میں موجود ہیں۔ اسے نمبروں کے ساتھ بھی کھیلا جاتا ہے جیسا کہ 10، 5 اور کوئین کے 50 نمبر زیادہ نمبر حاصل کرنے والا جیت جاتا ہے۔کوئین کے ساتھ دوسری گوٹ پاکٹ کرنا ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیرم بورڈ بوریت دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہم سب پرانے کیرم بورڈ کو نکال کر دوبارہ کھیلنا شروع کر رہے ہیں۔ ویب ڈیسک — سعودی عرب کی حکومت نے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی سمیت شاہی خاندان کے تین سینئر اراکین کو حراست میں لے لیا ہے۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں بادشاہ کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور بھتیجے محمد بن نائف بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو جمعے کو حراست میں لیا گیا۔ امریکی جریدے 'وال اسٹریٹ جرنل' کے مطابق ان افراد کو بغاوت کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا۔ سعودی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ محمد بن سلمان کے احکامات پر 2017 میں شاہی خاندان کے متعدد وزرا، کاروباری شخصیات اور اراکین کو گرفتار کر کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اُن میں ولی عہد محمد بن نائف بھی شامل تھے، جو اُس وقت وزیر داخلہ کے منصب پر بھی فائز تھے۔ لیکن اُنہیں ہٹا کر محمد بن سلمان خود ولی عہد بن گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق محمد بن سلمان کی بعض پالیسیوں کے باعث شاہی محل میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد اُن کے طرز حکمرانی پر سوال اُٹھائے گئے تھے۔ محمد بن سلمان، بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن نائف فائل فوٹو امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہی خاندان کے کچھ افراد احمد بن عبدالعزیز کو بادشاہ کا جانشین بنانا چاہتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ 84 سالہ بادشاہ کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت نہیں کریں گے۔ سعودی بادشاہ نے اپنے بیشتر اختیارات ولی عہد محمد بن سلمان کو تفویض کر رکھے ہیں۔ البتہ وہ خود بھی حکومتی اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ محمد بن سلمان نے 2016 سے سعودی عرب میں معاشی اور سماجی اصلاحات کا آغاز کر رکھا ہے۔ جن میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے سمیت بعض دیگر اقدامات شامل ہیں۔ سعودی حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ تیل کے علاوہ سیاحت سمیت دیگر ذرائع پر بھی اپنا انحصار بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن سعودی ولی عہد کی بعض پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔
العربیہ نیٹ کے مطابق سعودی عرب نے امداد دینے والے ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس عظیم انسانیت نواز کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے آگے آئیں اور آزمائش کی اس گھڑی میں یمن اور اس کے عوام کا ساتھ دیں۔ یمن کے لیے امدادی کانفرنس 2 جون کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق 4 بجے منعقد ہوگی

پاکستان: سعودی عرب اربوں کی سرمایہ کاری پر آمادہ

All other company names, brand names, trademarks and logos mentioned on this website are the property of their respective owners and do not constitute or imply endorsement, sponsorship or recom mendation thereof by BOL, and do not constitute or imply endorsement, sponsorship or recom mendation of BOL by the respective trademark owner.

7
سعودی عرب سے پاکستانیوں کی واپسی، ایک دن میں چار پروازیں
UrduNews In Saudi Arbia (KSA) اردو نیوز سعودی عرب: daily urdu news paper ksa daily urdu news paper saudi arabia
سعودی عرب میں اردو بولنے والے ڈرائیورز کے لیے خوشخبری ہے۔